سنت کی اہمیت اور ہمارے معاشرہ
✍️ F.A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وأصحابه أجمعين.
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد دو عظیم سرچشموں پر قائم ہے: قرآن کریم اور سنتِ نبوی ﷺ۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سنت رسول اللہ ﷺ اس کی عملی تفسیر، تشریح اور کامل نمونہ ہے۔ جس طرح قرآن کے بغیر دین مکمل نہیں ہوسکتا، اسی طرح سنت کے بغیر قرآن کو صحیح طور پر سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بھی ممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾
"رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔"
(سورۃ الحشر: 7)
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾
"آپ کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔"
(سورۃ آل عمران: 31)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت، رضا اور قرب صرف اتباعِ سنت کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔
سنت کی حقیقت
سنت سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال، تقریرات اور وہ طریقہ ہے جسے آپ ﷺ نے امت کے لیے پسند فرمایا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر صحابۂ کرامؓ نے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی حاصل کی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ»
"جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 7137)
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:
«تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي»
"میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"
(موطا امام مالک)
ہمارے معاشرے میں سنت سے دوری
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ سنتوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ دنیاوی رسم و رواج کو دین پر ترجیح دی جاتی ہے۔ شادی بیاہ، کاروبار، لباس، کھانے پینے، معاملات اور معاشرت کے اکثر شعبوں میں سنت کی جگہ غیر اسلامی رسموں نے لے لی ہے۔ نتیجتاً گھروں سے سکون، دلوں سے اطمینان اور معاشرے سے برکت اٹھتی جارہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ»
"تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔"
(سنن ابی داود، حدیث: 4607)
سنت پر عمل کے فوائد
سنت پر عمل کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کی محبت، رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور آخرت کی کامیابی کا مستحق بنتا ہے۔ سنت انسان کے اخلاق کو سنوارتی ہے، گھریلو زندگی میں محبت پیدا کرتی ہے، تجارت میں دیانت لاتی ہے اور پورے معاشرے میں امن، عدل اور اخوت کو فروغ دیتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے:
"اتباع کرو، نئی نئی باتیں ایجاد نہ کرو، کیونکہ تمہارے لیے دین مکمل کردیا گیا ہے۔"
ہماری ذمہ داری
ہمیں چاہیے کہ سنت کو صرف عبادات تک محدود نہ سمجھیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اختیار کریں۔ اپنے گھروں میں سنتوں کو زندہ کریں، بچوں کی تربیت سنت کے مطابق کریں، کھانے، پینے، لباس، معاملات، تجارت، نکاح، معاشرت اور اخلاق ہر میدان میں سنت کو اپنائیں۔ یہی دنیا کی عزت اور آخرت کی نجات کا راستہ ہے۔
اختتامیہ
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کو مضبوطی سے تھامنے، بدعات اور بے بنیاد رسم و رواج سے بچنے، اور اپنی پوری زندگی کو سنت کے نور سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾
(سورۃ آل عمران: 8)
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔