👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

اہل کتاب سے نکاح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟

الجواب:-اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے بشرطے کہ وہ واقعی اہل کتاب ہو یعنی یہودیہ یا نصرانیہ عورتیں ہوں دہریہ اور لا مذہب نہ ہو مگر پھر بھی ان سے نکاح کرنا مکروہ تنزیحی ہے کیونکہ کتابیہ کے ساتھ رہ کر خود مسلمان اپنا مذہب تبدیل کر دیتا ہے اس لیے اس دور میں کتابیہ سے نکاح کرنا بہتر نہیں ہے-فقط واللہ اعلم

📖 وَصَحَّ النِّكَاحُ بِكِتَابِيَّةٍ، وَإِنْ كُرِهَ تَنْزِيهًا، مُؤْمِنَةٍ ... بِكِتَابٍ، وَإِنِ اعْتَقَدُوا الْمَسِيحَ إِلَهًا، وَكَذَا حَلَّ ذَبِيحَتِهِمْ عَلَى الْمَذْهَبِ ... حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج ٤، ص ١٢٥–١٣٤، كتاب النكاح، ط: زكريا، ديوبند۔

📖 وَيَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ نِكَاحُ الْكِتَابِيَّةِ الْحُرَّةِ وَالذِّمِّيَّةِ، حُرَّةً كَانَتْ أَوِ امْرَأَةَ كِتَابِيٍّ، فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ، وَالْأَوْلَى أَنْ لَا يَفْعَلَ ... حوالہ: الفتاوى الهندية، ج ١، ص ٣٤٧، كتاب النكاح، ط: الشافعية، ديوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں