جواب:-جب کسی کے پاس حج کرنے کے لیے حلال پیسہ موجود نہیں ہے تو شریعت نے سود پر قرض لے کر حج کو جائز پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ جب پیسہ وصول ہو جائے گا اس کے بعد آپ پر حج کو جانا لازم ہے مگر سودی قرض لے کر حج کرنا شرعا اجازت نہیں ہے کیونکہ بینک سود کے علاوہ قرض دے گا ہی نہیں۔فقط واللہ اعلم۔

📖 عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ». حوالہ: صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، حديث: 1598۔

📖 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا» ... حوالہ: صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، حديث: 1015۔

📖 وَلَا بِمَالٍ حَرَامٍ، وَلَوْ حَجَّ بِهِ سَقَطَ عَنْهُ الْفَرْضُ، لَكِنَّهُ لَا تُقْبَلُ عَنْهُ حَجَّتُهُ، كَمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ، وَلَا تَنَافِيَ بَيْنَ سُقُوطِهِ وَعَدَمِ قَبُولِهِ، فَلَا يُثَابُ لِعَدَمِ الْقَبُولِ، وَلَا يُعَاقَبُ عِقَابَ تَارِكِ الْحَجِّ.غنية الناسك، شرائط الحج، أداء الحج بمال حرام أو مشتبه، ص 41، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية۔