ایک شخص ہسپتال میں داخل ہے اس کی ماں نے یہ نظر مانی اگر بیٹا صحیح ہو کر آ جاتا ہے تو ایک جانور ذبح کروں گی اب اس میں چند سوالات ہیں (1)وہ مریض صحیح ہو کر آگیا ہے تو کیا جانور ذبح کرنا لازم ہے یا جانو کی منت صدقہ کرنا بھی صحیح ہے (2) بکرا یا اسی درجہ کا جانور مراد ہوگا یا بڑے جانور یا مرغہ ذبح کرنے سے بھی کام چل جائے گا؟ اس جانور کا گوشت کھانے کا مستحق کون ہوگا؟ یہ نظر پورا کرنا لازم ہے یا نہیں؟

الجواب وبااللہ التوفیق:-صورت مسئولہ میں شرط پوری ہو جانے پر نذر کا پورا کرنا لازم ہے اور جانور کے ذبح کرنے پر قدرت کی صورت میں جانور ہی ذبح کرنا واجب ہے لیکن اگر کسی وجہ سے جانور کے ذبح پر قادر نہ ہو تو اس کے بدلہ صدقہ کرنا بھی کافی ہے اور جانور بولتے وقت اگر کسی مخصوص جانور کی نیت کی ہو تو نذر میں اسی جانور کو ذبح کرے گا لیکن مطلق نذر کی صورت افضل یہ ہے-

📖 ثُمَّ الْوَفَاءُ بِالْمَنْذُورِ بِهِ نَفْسِهِ حَقِيقَةً إِنَّمَا يَجِبُ عِنْدَ الْإِمْكَانِ، فَأَمَّا عِنْدَ التَّعَذُّرِ، فَإِنَّمَا يَجِبُ الْوَفَاءُ بِهِ تَقْدِيرًا بِخَلَفِهِ؛ لِأَنَّ الْخَلَفَ يَقُومُ مَقَامَ الْأَصْلِ... حَتَّى لَوْ نَذَرَ الشَّيْخُ الْفَانِي بِالصَّوْمِ، يَصِحُّ نَذْرُهُ، وَتَلْزَمُهُ الْفِدْيَةُ؛ لِأَنَّهُ عَاجِزٌ عَنِ الْوَفَاءِ بِالصَّوْمِ حَقِيقَةً، فَيَلْزَمُهُ الْوَفَاءُ بِهِ تَقْدِيرًا بِخَلَفِهِ. حوالہ: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 4، ص 243۔

📖 وَلَوْ قَالَ: عَلَيَّ شَاةٌ أَذْبَحُهَا وَأَتَصَدَّقُ بِلَحْمِهَا، لَزِمَهُ. وَلَوْ قَالَ: لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ أَذْبَحَ جَزُورًا وَأَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا، فَذَبَحَ مَكَانَهَا سَبْعَ شِيَاهٍ، جَازَ. وَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ مُرَادَهُمْ بِالْجَوَابِ الْفَرْضُ مِنْ قَوْلِهِمْ: «وَأَنْ يَكُونَ مِنْ جِنْسِهِ وَاجِبٌ»؛ لِأَنَّ الْأُضْحِيَّةَ وَاجِبَةٌ، وَهِيَ الذَّبْحُ، لَا التَّصَدُّقُ. حوالہ: البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج 4، ص 499۔

📖 وَلَوْ قَالَ: لِلَّهِ تَعَالَى عَلَيَّ أَنْ أَنْحَرَ وَلَدِي، أَوْ أَذْبَحَ وَلَدِي، صَحَّ نَذْرُهُ، وَيَلْزَمُهُ الْهَدْيُ، وَهُوَ نَحْرُ الْبَدَنَةِ أَوْ ذَبْحُ الشَّاةِ، وَالْأَفْضَلُ هُوَ الْإِبِلُ، ثُمَّ الْبَقَرُ، ثُمَّ الشَّاةُ. حوالہ: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 4، ص 232۔