جواب:-سورۃ مسئلہ میں د س یا بیس منزلہ عمارت میں سے کسی ایک منزل کو مسجد بنا لیے جائے تو وہ مسجد شرعی نہیں کہا جائے گی البتہ عبادت خانہ سمجھ کر اس میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہوگی تا ہم اس میں نماز پڑھنے سے مسجد شرعی کا ثواب نہیں ملے گا اور اس میں حیضہ اور نفسہ کا دخل بھی جائز ہوگا کیونکہ مسجد شرعی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زمین سے لے کر اسمان تک وہ مسجد ہی ہو کسی کی ملکیت سے مکمل طور پر خارج ہو کر وقف علی اللہ ہو -المصتفاد: قاسمیہ:٥٠٧/١٧-٦٦٦)

📖 قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ﴾ (سورۃ الجن: 18)

📖 لِأَنَّهُ مَسْجِدٌ إِلَى عَنَانِ السَّمَاءِ، وَكَذَا إِلَى تَحْتِ الثَّرَى.(شامي زكريا: ٤٢٨/٢) حوالہ: رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، 1/656، ط: سعيد۔

📖 وَحَاصِلُهُ أَنَّ شَرْطَ كَوْنِهِ مَسْجِدًا أَنْ يَكُونَ سُفْلُهُ وَعُلْوُهُ مَسْجِدًا؛ لِيَنْقَطِعَ حَقُّ الْعَبْدِ عَنْهُ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ﴾.(البحر الرايق: شرح كنز الدقائق، كتاب الوقف، فصل في أحكام المسجد، 5/251، ط: مكتبة رشيدية۔)