ڈاکٹر کا مانع حمل دوا لکھنا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:-ڈاکٹر کے لیے ایسی دوا مریضہ کے حق میں لکھنا جس سے قوت تولید تو باقی رہے البتہ حمل نہ قرار پائے جائز اور درست ہے لیکن بلا ضرورت شدیدہ ایسی دواؤں کا استعمال کرنا مکروہ تنزیحی ہے-
📖 وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، وَمَا كَانَ سَبَبًا لِمَحْظُورٍ فَهُوَ مَحْظُورٌ. حوالہ: رد المحتار على الدر المختار (شامي)، ج 9، ص 504، ط: زكريا ديوبند۔
📖 قَالَ ابْنُ وَهْبَانَ: «فَإِبَاحَةُ الْإِسْقَاطِ مَحْمُولَةٌ عَلَى حَالَةِ الْعُذْرِ، أَوْ أَنَّهَا لَا تَأْثَمُ إِثْمَ الْقَتْلِ».حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار (شامي)، كتاب النكاح، مطلب في حكم إسقاط الحمل، ج 4، ص 335، ط: زكريا ديوبند۔