دکان اور فیکٹری کی کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہے؟
جواب:-اہل صنعت وہ کاریگر کے لیے ان کے پیشہ کے اوزار ضرورت اصلیہ میں داخل ہے لہذا دکان کی ترازو اور فیکٹریوں کی مشینیں وغیرہ کی زکوۃ نہیں ہے ان کے علاوہ جو چیز اموال تجارت ہے ان پر زکوۃ واجب ہے۔فقط واللہ اعلم
📖 وفسَّره ابن مالك، أي فسَّر المشغولَ بالحاجة الأصلية، والأولى تفسيرُها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك...(رد المحتار على الدر المختار، 3/178، كتاب الزكاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وعلى الحاجة الأصلية، ككتابه المحتاج إليها لدفع الحدث، كالنفقة، ودور السكنى، وآلات الحرب، والحِرَفة، وأساس المنزل، ودواب الركوب، وكتب العلم... إلخ. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 714، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 الزيادةُ عن الحاجاتِ الأصلية، أي يُشترط في المالِ الذي تجب فيه الزكاة أن يكون فارغًا عن الدَّين وعن الحاجةِ الأصلية...(الفقه الإسلامي وأدلته، 3/1809، كتاب الزكاة، بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- ملازمت بچانے کے لیے داڑھی منڈوانا جائز ہے یا نہیں؟
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے