حلال اور حرام جانوروں کے جھوٹے میں فرق
📖 **وَذُكِرَ فِي صَلَاةِ الْأَصْلِ: الْمُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَتَوَضَّأَ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ، وَإِنْ تَوَضَّأَ بِهِ أَجْزَأَهُ.** **حوالہ:** المحيط البرهاني، ج 1، ص 286؛ جلس كبير، ص 168۔ **وَإِذَا أَكَلَتْ فَأْرَةٌ وَشَرِبَتْ مِنْ إِنَاءٍ عَلَى فَوْرِهَا، ذَلِكَ يَتَنَجَّسُ الْمَاءُ بِلَا خِلَافٍ.**حوالہ:** المحيط البرهاني، ج 1، ص 286۔
📖 **وَأَمَّا الطَّاهِرُ الَّذِي هُوَ مَكْرُوهٌ، فَهُوَ سُؤْرُ الدَّجَاجَةِ الْمُخَلَّاةِ؛ لِأَنَّهَا تُفَتِّشُ الْجِيَفَ وَالْأَقْذَارَ، فَمِنْقَارُهَا لَا يَخْلُو عَنْ نَجَاسَةٍ، مَعَ هَذَا إِذَا تَوَضَّأَ بِهِ أَجْزَأَهُ.** **حوالہ:** الفتاوى التاتارخانية، ج 1، ص 351، كتاب الطهارة، الفصل الرابع في المياه، ط: زكريا، ديوبند۔
📖 **وَسُؤْرُ هِرَّةٍ... وَسَوَاكِنُ بُيُوتٍ طَاهِرٌ لِلضَّرُورَةِ، مَكْرُوهٌ تَنْزِيهًا فِي الْأَصَحِّ إِنْ وُجِدَ غَيْرُهُ.**حوالہ:** رد المحتار على الدر المختار (شامي)، ج 1، ص 383–385، كتاب الطهارة، باب المياه، ط: زكريا، ديوبند۔
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟