جہیز لینا اور دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ نیز دورِ نبوت اور دورِ صحابہ میں جہیز دینے کا کیا رواج تھا؟
📖 عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ. حوالہ: ١- سنن النسائي، ج ٢، ص ٧٧، كتاب النكاح، باب جهاز الرجل ابنته، رقم الحديث: ٣٣٨٦، ط: دار السلام۔ ٢- مسند أحمد بن حنبل، ج ١، ص ٨٤۔
📖 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَافِ، فَقَالَ: «فَوَاللَّهِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ» ...حوالہ: سنن أبي داود، كتاب الفرائض؛ وانظر: الفتاوى الهندية، ج ٢، ص ٢٠۔
📖 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِعِزِّهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا ذُلًّا، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِمَالِهَا، لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا فَقْرًا». حوالہ: المعجم الأوسط للطبراني، ج ٢، ص ١٨، رقم الحديث: ٢٣٤٢، ط: دار الفكر۔
مزید متعلقہ سوالات
- اگر پانی کی ٹنکی میں ہڈی مل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- اہل کتاب سے نکاح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟