جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
📖 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ سَلَّمَ.حوالہ: سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الخطبة يوم الجمعة، ج 1، ص 368؛ السنن الكبرى للبيهقي، ج 4، ص 444، رقم الحديث: 837۔
📖 عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، سَلَّمَ عَلَى مَنْ عِنْدَ مِنْبَرِهِ مِنَ الْجُلُوسِ، فَإِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ تَوَجَّهَ إِلَى النَّاسِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.حوالہ: المعجم الأوسط للطبراني، ج 7، ص 349، ط: دار الفكر۔
📖 عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ»، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَفْعَلُونَهُ.حوالہ: مصنف ابن أبي شيبة، ج 2، ص 114۔
مزید متعلقہ سوالات
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے
- ایک شخص نے وصیت کی کہ ان پیسوں کو مسجد میں لگادینا پھر اس کا انتقال ہوگیا تو کیا ان پیسوں کو مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں ؟
- مسجد میں تعلیم دینے پر استاد کی تنخواہ اور بچوں کی فیس کا شرعی حکم کیا ہے؟