کسی کی ملکیت میں تالاب ہے اور اس نے باہر سے مچھلیاں لا کر تالاب میں ڈال رکھا ہے تاکہ مچھلیاں اس تالاب میں پرورش پاکر بڑی ہو جائے پھر اس کے بعد اس میں سے پکڑ کر فروخت کیا جائے تو ایسے تالاب کی مچھلیاں مارنا دوسرے لوگوں کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

الجواب:-صورت مسئولہ میں جب ایک شخص نے باہر سے مچھلیاں تالاب میں لا کر ڈال دی ہے تو اب وہ اس کا مالک ہو گیا لہذا اب اس کے علاوہ کسی اور کو اس تالاب سے مچھلیاں مارنا صحیح نہیں ہوگا –

📖 فَإِنْ كَانَ أَعَدَّهَا لِذَلِكَ، فَمَا دَخَلَهَا مِلْكُهُ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَهُ. حوالہ: فتح القدير، ج 6، ص 375۔

📖 لَا يَجُوزُ التَّصَرُّفُ فِي مَالِ غَيْرِهِ بِلَا إِذْنِهِ. حوالہ: رد المحتار، ج 6، ص 200، کراچی۔

📖 لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مَالِ غَيْرِهِ بِلَا إِذْنِهِ. حوالہ: شرح المجلة، ج 1، ص 61۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں