کسی نے یہ نظر مانی کہ جب میں دہلی جاؤں گا میرے اوپر دس روزہ رکھنا واجب ہوگا تو سوال یہ ہے کہ جب وہ دہلی جائے گا تو یہ روزہ رکھنا اس کے اوپر واجب ہوگا یا نہیں اگر واجب ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کسی بھی شکل ہے ایک دفعہ تین روزہ رکھنے کے بعد دوبارہ جب جائے تو چھٹکارا ہو جائے؟

الجواب وباللہ توفیق:- سورۃ مسئلہ میں مسکرا شخص جب بھی دہلی جائے گا تو اس کے اوپر نظر کے متعینہ روزہ واجب ہوگا اور یہ نظر متعلق ہو جائے گی اور اس کو پورا کرنا لازم ہوگا اور اس کا ایک دفعہ تین روزہ رکھنے کے بعد جب دوبارہ جائے تو چھٹکارا نہ ملے گا بلکہ حسب نظر اس کے اوپر نظر کے متعینہ روزے لازم ہوں گے۔(نوازل :٦٩٤/١٠)

📖 من نظر نظرا متعلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب اي فرض وهو عبادة مقصودة ووجد الشرط المتعلق به لازم ناذر. (شامي زكريا: ٥١٥/٥)

📖 من نظر وسمي وعليه الوفاء (الحديث) ك صوم وصلاة وصدقة لقوله تعالى:" ليوفو نزورهم"(الحج: ٢٩) شامي ، زكريا:٥١٦/٥)