کیا مسجد کی گولگ کے پیسے مدرسے کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں؟
الجواب و بااللہ التوفیق شریعت میں مسجد مدرسہ عيدگاہ اور قبرستاں وغیرہ یہ سب الگ الگ وقف ہیں اور اوقاف کے سلسے میں ضابطہ یہ ہے کہ ہر وقف کی آمدنی اُسی وقف میں لگ سکتی ہے کسی دوسرے وقف میں نہیں لگ سکتی اس لیے سوال میں مذکور اوقاف میں سے کسی وقف کی آمدنی دوسرے وقف میں لگانا (عام حالات میں) جائز نہیں
📖 وَإِنِ اخْتَلَفَ أَحَدُهُمَا، بِأَنْ بَنَى رَجُلَانِ مَسْجِدَيْنِ، أَوْ بَنَى رَجُلٌ مَسْجِدًا أَوْ مَدْرَسَةً، وَوَقَفَ عَلَيْهِمَا أَوْقَافًا، لَا يَجُوزُ لَهُ ذَلِكَ. حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الوقف، ج ٦، ص ٥٥١، ط: سعيد۔
📖 وَقْفُ الْمَسْجِدِ وَالْمَدْرَسَةِ مُنْفَصِلٌ، فَلَا يَجُوزُ صَرْفُ وَقْفِ الْمَسْجِدِ إِلَى الْمَدْرَسَةِ. حوالہ: فتاوى دار العلوم دیوبند، فتویٰ نمبر 35797، مورخہ 1 ستمبر 2020ء۔