👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
ایک عورت کی شادی ہوئی ایک ادمی سے اور اس کے ہاں بچے پیدا ہوئے پھر شوہر کا انتقال ہو گیا اور اپنا اپنا حصہ بھی تقسیم کر دی گئی اب اس عورت کی دوسری شادی ہوتی ہے ایک دوسرے ادمی سے اور اس کے یہاں بھی بچے ہیں اب اگر پہلی شادی سے ہوا لڑکا انتقال کر گیا اپنے بالغ بچے چھوڑ کر تو اس حالت میں لڑکے کے انتقال کے بعد اپنی ماں جو کہ اب دوسرے کی شادی میں ہے اس کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں
الجواب وبالله التوفيق: ذکر کردہ صورت میں مرحوم بیٹے کی ماں جو اب دوسرے کے نکاح میں ہے اس کو اپنے بیٹے کی جائیداد میں حصہ ملے گا۔
📖 وَالثَّالِثَةُ: الْأُمُّ، وَلَهَا ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ: السُّدُسُ مَعَ الْوَلَدِ وَوَلَدِ الِابْنِ، أَوِ اثْنَيْنِ مِنَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ، مِنْ أَيِّ جِهَةٍ كَانُوا، وَالثُّلُثُ عِنْدَ عَدَمِ هَؤُلَاءِ، وَثُلُثُ مَا يَبْقَى بَعْدَ فَرْضِ الزَّوْجِ وَالزَّوْجَةِ. حوالہ: الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثاني: في ذوي الفروض، ج ٦، ص ٥٠٠، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔
مزید متعلقہ سوالات
- اگر پانی کی ٹنکی میں ہڈی مل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- اہل کتاب سے نکاح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟
- جہیز لینا اور دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ نیز دورِ نبوت اور دورِ صحابہ میں جہیز دینے کا کیا رواج تھا؟
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟