ایک شخص موبائل کی کمپنی کا مالک ہے اور اس کی ماتحتی میں مزدور کام کرتے ہیں اور کمپنی کا قانون یہ ہے اگر کوئی مزدور ایک دن کی بھی چھٹی کرتا ہے تو کمپنی ٥٠٠ روپیے کاٹ لیتی ہے جبکہ اسکی مزدوری ایک دن کی ٤٨٤ بیٹھتے ہیں، اور اسی طرح اگر کوئی مزدور دس دن کام کرکے چھوڑ دیتا ہے تو کمپنی اس کو دس دن کی مزدوری نہیں دیتی تاکہ مزدور چھٹی نہ کرے تو کیا اس طرح کا عمل جائز ہے یا نہیں ؟؟
واضح رہے کہ کویٔ بھی کمپنی اپنے مزدور کو جو تنخواہ دیتی ہے وہ در حقیقت مزدوری کی اجرت دیتی ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص کمپنی میں چھٹی کرتا ہے تو مالک کو شرعاً یہ اختیار ہیکہ وہ أیام غیر حاضری کی تنخواہ کاٹ لے، لیکن مالک کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ غیر حاضری پر اتنی زیادہ تنخواہ کاٹے جس سے مزدور کو حرج ہو، یہ ظلم ہے، ٢- مالک کے لیے یہ ہرگز جایز نہیں ہے کہ وہ صرف بغرض خود مزدور کی دس یوم کی تنخواہ نہ دے، یہ عمل شرعاً و اخلاقاً درست نہیں ہے، قرآن و احادیث نے اس کی سخت مذمت کی ہے، بروز قیامت یہ روکی ہویٔ تنخواہ اعمالِ صالحہ کے ذریعہ ادا کرنا ہوگی- لھذا مالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام مزدور کی تنخواہ لوٹا دے جس – جس کی تنخواہ اب تک نہیں دی ہے، اور کمپنی کو نقصان سے بچانے کے لیے جایز و عدل وانصاف پر مبنی قانون بناییں،۔ نیز أیام غیر حاضری کی جو تنخواہ ہے صرف وہی کاٹے، اور مزدوروں کے ساتھ آسانی وحسنِ سلوک کرے؛ فقط والّله سبحانه وتعالى أعلم بالصّواب
📖 قال اللّه تعالى:وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ( سورۃ الأعراف : ٨٥)
📖 عن عبدالله بن عمر قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم: أعطوا الأجير أجره، قبل أن يجف عرقه. (سنن ابن ماجة/كتاب الرهون/باب أجر الأجراء، ٨١٧/١، رقم الحديث: ٢٤٤٣، ط: بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت کو لیکوریا (سیلانِ رحم) کی بیماری ہو تو طہارت اور نماز کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص وضو اور غسل کرنے پر قادر نہ ہو تو شرعا کیا حکم ہے؟
- استنجاء کا مسنون طریقہ کیا ہے وضاحت بیان کریں؟
- ایک شخص تہجد کے وقت اٹھا اس نے وضو کرکے دورکعت نفل نماز پڑھی نماز سے فارغ ہونے بعد پتہ چلا کہ فجر کا وقت شروع ہوچکا کافی دیر پہلے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ دو رکعت فجر کی سنتوں کے قائم مقام ہوں جائیں گی یا نہیں ؟
- اولاد کو والدین سے پہلے حج کرنا درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں؟