الجواب وبا اللہ التوفیق دوران نماز چھینک آنے پر الحمدللہ نہیں کہنا چاہۓ لیکن اگر کوئ شخص دوران نماز چھینک آنے پر الحمدللہ کہدے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی لیکن اگر اس چھینک کے جواب میں کوئ شخص دوران نماز یَرحَمُکَ اللّٰہ کہے تو اسکی نماز فاسد ہو جائیگی
📖 📖 الحمدللہ فمن العاطس نفسہ لا تفسد وکذا من غیرہ إن أراد الثواب إتفاقا .[حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح ص: 326)
📖 📖 درر الحكام شرح غرر الأحكام - (1 / 451): ( قوله : ولو قال العاطس أو السامع الحمد لله لا تفسد ) أقول ، كذا في الهداية لكن بصيغة على ما قالوا . وقال الكمال قوله على ما قالوا إشارة إلى ثبوت الخلاف
📖 📖 البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (2 / 5) وقيد بقوله يرحمك الله لأنه لو قال العاطس أو السامع الحمد لله لا تفسد لأنه لم يتعارف جوابا وإن قصده وفيه اختلاف المشايخ ومحله عند إرادة الجواب أما إذا لم يرده بل قاله رجاء الثواب لا تفسد بالاتفاق كذا في غاية البيان۔
مزید متعلقہ سوالات
- بینک یا کسی سے قرض لے کر حج کرنا شرعا کیسا ہے؟
- ایک عورت کی عادت چار دن ماہواری کی ہے۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد اس عورت کو ماہواری آئی اور چار دن پورے کر لیے، اس کے بعد وہ عادت کے مطابق پاک ہو گئی اور دو دن پاک رہنے کے بعد تیسرے دن اس نے خون دیکھا، تو اب یہ عورت حائضہ کہلائے گی یا نہیں؟
- تین سال بعد بچے کا نام تبدیل کرنا کیسا ہے؟
- نکاح کے وقت گواہوں کو ایجاب و قبول کا علم ہونا ضروری ہے؟
- مکان، دکان اور گاڑی پر قرآنی آیات یا دعائیں لکھوانے کا شرعی حکم