📖 إِذَا لَمْ يَسْمَعَا كَلَامَهُمَا، ثُمَّ الشَّرْطُ أَنْ يَسْمَعَا مَعًا كَلَامَهُمَا مَعَ الْفَهْمِ.شرح فتح القدير، كتاب النكاح، ج 3، ص 195، مکتبہ زکریا دیوبند۔
📖 وَهَلْ يُشْتَرَطُ فَهْمُ الشَّاهِدَيْنِ الْعَقْدَ؟ ذُكِرَ فِي الْفَتَاوَى أَنَّ الْمُعْتَبَرَ السَّمَاعُ دُونَ الْفَهْمِ، حَتَّى لَوْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ الْأَعْجَمِيَّيْنِ جَازَ، قَالَ الظَّهِيرُ: وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْفَهْمُ أَيْضًا، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ.(هندية:٣٣٣/١،كتاب النكاح)
📖 وَأَمَّا فَهْمُ الشُّهُودِ كَلَامَ الْمُتَعَاقِدَيْنِ، هَلْ هُوَ شَرْطٌ؟ فَقَدْ ذَكَرَ الْبَقَّالِيُّ فِي فَتَاوَاهُ: قِيلَ: الِاعْتِبَارُ بِسَمَاعِ الشُّهُودِ لَفْظَ النِّكَاحِ، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوا تَفْسِيرَهُ، قَالَ: وَالظَّاهِرُ خِلَافُهُ. حوالہ: الفتاوى التاتارخانية، ج 4، ص 37، رقم: 5456، مکتبہ زکریا دیوبند۔
مزید متعلقہ سوالات
- بینک یا کسی سے قرض لے کر حج کرنا شرعا کیسا ہے؟
- ایک عورت کی عادت چار دن ماہواری کی ہے۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد اس عورت کو ماہواری آئی اور چار دن پورے کر لیے، اس کے بعد وہ عادت کے مطابق پاک ہو گئی اور دو دن پاک رہنے کے بعد تیسرے دن اس نے خون دیکھا، تو اب یہ عورت حائضہ کہلائے گی یا نہیں؟
- تین سال بعد بچے کا نام تبدیل کرنا کیسا ہے؟
- مکان، دکان اور گاڑی پر قرآنی آیات یا دعائیں لکھوانے کا شرعی حکم
- دس یا بیس منزلہ عمارت میں ایک منزل کو مسجد بنانے کا حکم