الجواب وباللہ التوفیق:-نکاح کے وقت میں ایجاب و قبول کے لیے گواہوں کو مجلس نکاح کا علم ہونا اور اسی طرح ایجاب و قبول میں نکاح سے متعلق ہی کلام کیا جا رہا ہے اس کا علم ہونا ضروری ہے صاحب بحر الرائق نے اور ہندیہ میں بھی راجح قول نکاح کے لفظ کو سمجھنے کے ساتھ گواہی دینے کو ذکر فرمایا ہے "شرط قرار دیا ہے" جب کہ ایک قول بعض فقہاء کا لفظ نکاح کو نہ سمجھنے کا بھی ہے لیکن پہلے قول کو راجح قرار دیا ہے وجہ ترجیح یہ ہے کہ پہلے قول کو صاحب بحر اور در مختار نے مذہب قرار دیا ہے اور دونوں کے درمیان اس طرح تطبیق دی ہے-

📖 إِذَا لَمْ يَسْمَعَا كَلَامَهُمَا، ثُمَّ الشَّرْطُ أَنْ يَسْمَعَا مَعًا كَلَامَهُمَا مَعَ الْفَهْمِ.شرح فتح القدير، كتاب النكاح، ج 3، ص 195، مکتبہ زکریا دیوبند۔

📖 وَهَلْ يُشْتَرَطُ فَهْمُ الشَّاهِدَيْنِ الْعَقْدَ؟ ذُكِرَ فِي الْفَتَاوَى أَنَّ الْمُعْتَبَرَ السَّمَاعُ دُونَ الْفَهْمِ، حَتَّى لَوْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ الْأَعْجَمِيَّيْنِ جَازَ، قَالَ الظَّهِيرُ: وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْفَهْمُ أَيْضًا، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ.(هندية:٣٣٣/١،كتاب النكاح)

📖 وَأَمَّا فَهْمُ الشُّهُودِ كَلَامَ الْمُتَعَاقِدَيْنِ، هَلْ هُوَ شَرْطٌ؟ فَقَدْ ذَكَرَ الْبَقَّالِيُّ فِي فَتَاوَاهُ: قِيلَ: الِاعْتِبَارُ بِسَمَاعِ الشُّهُودِ لَفْظَ النِّكَاحِ، وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوا تَفْسِيرَهُ، قَالَ: وَالظَّاهِرُ خِلَافُهُ. حوالہ: الفتاوى التاتارخانية، ج 4، ص 37، رقم: 5456، مکتبہ زکریا دیوبند۔