پاک اور ناپاک پانی کی شرعی پہچان کیا ہے؟

الجواب:- آسمان کا پانی، وادیوں کا پانی، چشموں کا پانی، کنوؤں کےپانی اور دریاؤں کے پانی پاک ہے جب تک اس کا رنگ یا مزہ یا بو بدل نہ جائے،اسی طرح درخت یا پھل وغیرہ سے نچوڑا ہوا پانی بھی پاک ہے لیکن پاک کرنے والا نہیں ہے اور وہ پانی جس میں نجاست گر جائے اور ٹھہرا ہوا قلیل ہو اگرچہ نجاست ظاہر نہیں ہو،واضح رہے کہ قلیل پانی وہ ہے جو دہ در دہ سے کم ہو اور جب پانی قلیل نہ ہو بلکہ کثیر ہو اور نجاست کا اثر ظاہر ہو جائے ایسے پانی ناپاک ہے-

📖 يُرْفَعُ الْحَدَثُ مُطْلَقًا بِمَاءٍ مُطْلَقٍ، وَهُوَ مَاءُ سَمَاءٍ، وَأَوْدِيَةٍ، وَعُيُونٍ، وَآبَارٍ، وَبِحَارٍ، وَثَلْجٍ مُذَابٍ، وَيَتَنَجَّسُ الْمَاءُ الْقَلِيلُ، وَحُكْمُ سَائِرِ الْمَائِعَاتِ كَالْمَاءِ فِي الْأَصَحِّ. حوالہ: رد المحتار على الدر المختار (شامي)، باب المياه، ج 1، ص 358–368، ط: أشرفية ديوبند۔

📖 والطهارة من الاحداث جائزة بماء السماء والاودية والعيون والابار وماء البحار .... وكل ماء دائم إذا وقعت فيه نجاسة لم يجز الوضوء به قليلا....(انوار القدور ى:٥٥/١-٥٧،كتاب الطهاره دار الاشاعت کراچی)

📖 وَالطَّهَارَةُ مِنَ الْأَحْدَاثِ جَائِزَةٌ بِمَاءِ السَّمَاءِ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾، وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، إِلَّا مَا غَيَّرَ لَوْنَهُ أَوْ طَعْمَهُ». وَكُلُّ مَاءٍ وَقَعَتِ النَّجَاسَةُ فِيهِ لَمْ يَجُزِ الْوُضُوءُ بِهِ، قَلِيلَةً كَانَتِ النَّجَاسَةُ أَوْ كَثِيرَةً.حوالہ: أشرف الهداية، كتاب الطهارة، ج 1، ص 132–138، ط: دار الإشاعت، كراتشي۔