کیا قبلہ کی طرف وضو خانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ احادیث میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت آئ ہے
الجواب:-وضو خانہ قبلہ کی طرف بنا سکتے ہیں اور یہی مستحب بھی ہے رہی بات کلّی کی تو وضو کرتے وقت کُلی نیچی کی طرف منھ کرکے کی جاتی ہے اسلئے اسمیں بے ادبی نہیں ہے
📖 ومن آدابہ استقبال القبلہ والجلوس فی مکان مرتفع شامی ذکریا ۱۔۔۔ ۲۵۰ ۔۔ الطحطاوی ۔ دار الکتب العلمیہ ص 75
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟