شادی سے پہلے لڑکی کو دیے گئے کپڑے وغیرہ کیا مہر میں شامل ہوں گے؟

جواب:شادی سے پہلے لڑکی کو کپڑے، زیورات یا دیگر چیزیں دی جائیں تو عام طور پر وہ مہر میں شامل نہیں ہوتیں، بلکہ ہدیہ شمار ہوتی ہیں۔ البتہ اگر دیتے وقت واضح طور پر یہ کہا جائے کہ یہ چیزیں مہر کے طور پر دی جا رہی ہیں، تو وہ مہر میں شمار ہوں گی۔ کیونکہ عرف میں شادی سے پہلے دی جانے والی ایسی چیزیں عموماً ہدیہ ہی سمجھی جاتی ہیں، اس لیے انہیں مہر قرار دینے کے لیے مہر ہونے کی وضاحت ضروری ہے۔

📖 وَمِنْ ذَلِكَ مَا يَبْعَثُهُ إِلَيْهَا قَبْلَ الزِّفَافِ فِي الْأَعْيَادِ وَالْمَوَاسِمِ مِنْ نَحْوِ ثِيَابٍ وَحُلِيٍّ، وَكَذَا مَا يُعْطِيهَا مِنْ ذَلِكَ أَوْ مِنْ دَرَاهِمَ أَوْ دَنَانِيرَ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْعُرْسِ وَيُسَمَّى فِي الْعُرْفِ صُبْحَةً، فَإِنَّ كُلَّ ذَلِكَ تُعُورِفَ فِي زَمَانِنَا كَوْنُهُ هَدِيَّةً لَا مِنَ الْمَهْرِ، وَلَا سِيَّمَا الْمُسَمَّى صُبْحَةً، فَإِنَّ الزَّوْجَةَ تُعَوِّضُهُ عَنْهَا ثِيَابُهَا وَنَحْوُهَا صَبِيحَةَ الْعُرْسِ أَيْضًا --// رد المحتار: 3/153، دار الفكر

📖 وَإِذَا بَعَثَ الزَّوْجُ إِلَى أَهْلِ زَوْجَتِهِ أَشْيَاءَ عِنْدَ زَفَافِهَا، مِنْهَا دِيبَاجٌ، فَلَمَّا زُفَّتْ إِلَيْهِ أَرَادَ أَنْ يَسْتَرِدَّ مِنَ الْمَرْأَةِ الدِّيبَاجَ، لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ إِذَا بَعَثَ إِلَيْهَا عَلَى جِهَةِ التَّمْلِيكِ، كَذَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّةِ --// الفتاوى الهندية: 1/327، دار الفكر

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں