ثریا کے طلوع ہونے کے بعد آفات ختم ہونے کی حقیقت
📖 وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا، فَيَتَبَيَّنَ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ.(صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب بيع الثمار قبل أن يبدو صلاحها، ١/٢٩٦)
📖 وَقَالَ فِي فَيْضِ الْبَارِي تَحْتَ قَوْلِهِ: «حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا»: وَمِنْ عَادَةِ الْعَرَبِ أَنَّهُمْ إِذَا ذَكَرُوا طُلُوعَ النَّجْمِ أَرَادُوا بِهِ طُلُوعَهُ الْمُقَارِنَ لِلْفَجْرِ، وَطُلُوعُ الثُّرَيَّا يَكُونُ فِي الشَّهْرِ الْمَشْهُورِ فِي الْهِنْدِ بِـ«أَسَارَةٍ». ثُمَّ إِنَّ الْحَافِظَ ذَكَرَ هُنَا رِوَايَةً عَنْ عَطَاءٍ: «إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنِ الثِّمَارِ»، وَهِيَ مِنْ مُسْنَدِ أَبِي حَنِيفَةَ، فَضْلًا عَنْ اعْتِمَادِهِ عَلَيْهَا.فيض الباري شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 476، رقم: 2194۔
مزید متعلقہ سوالات
- ملازمت بچانے کے لیے داڑھی منڈوانا جائز ہے یا نہیں؟
- گاڑیوں کے کرائے سے حاصل شدہ رقم سے سال کے اندر دوسری گاڑی خریدنے پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟
- امام کے بال انگریزی طرز پر کٹے ہوئے ہوں تو اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
- جمعہ کے خطبے سے پہلے منبر پر سلام کرنا سنت ہے یا نہیں؟
- سونا (Gold) کا بونڈ خریدنا کیسا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کے آربی آئی مشتری کے نام ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے موجودہ قیمت کے لحاظ سے، پھر ایک طے شدہ مدت کے بعد اسے مارکیٹ ویلو کے اعتبار سے آپ فروخت کرسکتے ہیں واضح رہے کہ آپ سونے کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتے ہیں ۔ کیا اس طرح سونے کا بونڈ خریدنا جائز ہے