چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: مسؤولہ صورت میں اجارہ کا معاملہ عمل اور وقت دونوں سے متعلق ہے؛ لہذا شخصِ مذکور کا چار گھنٹے میں بچوں کو پڑھا کر چھ گھنٹے کی سیلری لینا جائز نہیں ہے۔

📖 «وَلَيْسَ لِلْخَاصِّ أَنْ يَعْمَلَ لِغَيْرِهِ، بَلْ وَلَا أَنْ يُصَلِّيَ النَّافِلَةَ. قَالَ فِي التَّاتَارْخَانِيَّةِ: وَإِذَا اسْتَأْجَرَ رَجُلًا يَوْمًا يَعْمَلُ كَذَا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَعْمَلَ ذَلِكَ الْعَمَلَ إِلَى تَمَامِ الْمُدَّةِ، وَلَا يَشْتَغِلَ بِشَيْءٍ آخَرَ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ».حوالہ: رد المحتار على الدر المختار (شامي)، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مطلب: ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج ٩، ص ٩٦، ط: زكريا۔