اذان کے کلمات اگر چھوٹ جائے تو اگر اسی وقت یاد ا جائے تو یہ ادا کر کے بعد کے کلمات بھی ادا کی جائے تو اعظم صحیح ہو جائے گی اور اگر بعد میں یاد ائے تو دوبارہ اذان دی جائے گی لیکن چونکہ نماز فجر میں الصلوۃ خیر من النوم کہنا مستحب ہے لہذا اگر یہ چھوٹ جائے تو فورا یاد انے پر اعاده ضروری ہے اور اگر بعد میں اتا ہے تو یہ اعاده کی ضرورت نہیں ہے ،(قاسمیہ:٤٣٢/٥)
📖 ويتراسل فيه لسته بين كلمتين ويكره تركه اعادته ولو قدم فيهما مؤخرا اعادها وتحته كما لو قدم الفلاح على الصلاة يعيده فقط اي لا يستانف الاذان من اوله (شامي، زكريا:٥٣/٢-٥٦)
📖 بعد الفلاح اذان الفجر الصلاة خير من النوم وهو للندب بقرينه قوله: يا احسن هذا وفي قوله بعد فلاح اذان الفجر دعلي من قول ان محلها بعد اذان بقيامه (البحر الرايق كتاب الصلاة باب الاذان ، زكريا :٤٤٦/١)
مزید متعلقہ سوالات
- گھر پر پیتل کے برتن ہیں کچھ برتن استعمال ہوتے ہیں اور کچھ برتن کئی سال سے ایسے ہی رکھے ہوۓ ہیں؟؟ تو اب ان میں سے کن برتنوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟
- ڈاکٹر کا مریض بھیجنے کے بدلے کمیشن لینا جائز ہے؟
- سنن مؤکدہ میں تحیۃ المسجد یا نفل کی نیت کرسکتے ہیں؟
- کیا نبی کریم ﷺ نے کلیجی ناپسند فرمائی تھی؟
- کیا نفلی روزے میں خالص سیاہ خضاب کر سکتے ہیں یا نہیں؟