الجواب:- قرآن کریم اور احادیث مبارک کی واضح تصریحات ہیں کہ پہلے امتوں پر نماز فرض تھی جیسے بنی اسرائیل پر دو وقت کی نمازیں فرض تھیں دو رکعتیں صبح اور دو رکعتیں شام ،باقیہ امتوں کا حال خدا جانے-
📖 ذهب جماعة إلى انه لم يكن قبل الاسراء صلاة مفروضة....وذهب الحربي إلى ان الصلاة كانت مفروضة ركعتين بالغداء وركعتين بالعشي....(فتح الباري: ٥٥٤/١)
📖 وقد قيل: إن أول ذلك الفرض: ركعتان بالغداء وركعتان بالعشي....(تفسير الطبري: ٥٠١/٣)
📖 وسبح بحمد ربك طلوع الشمس وقبل الغروب (ق:٣٩) وقد كان هذا قبل ان تفرض الصلوات الخمس ليلة الاسراء وهذه الآية مكية(تفسير ابن كثير: ٥٣٨/٣)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئ شخص کسی کے گھر یا دوکان پر جا کر قرآن پڑھے اور وہ اسکو پیسے دے تو یہ پیسے لینا کیسا ہے ؟