ایک شخص نے ایک انجمن یا اکیڈمی قائم کیا اس میں تقابلی سوال و جواب ہوتا ہے جن لوگوں کو اس تقابل سوال و جواب میں حصہ لینا ہوتا ہے ان کو100 روپے کا رجسٹر پیش کرنا پڑتا ہے تو کیا جائز ہے؟
جواب:-سورۃ مسئلہ میں مسکرا انجمن یا اکیڈمی میں جو تقابلی سوال و جواب ہوتے ہیں اس میں حصہ لینے کے لیے جو فارم پور کیے جاتے ہیں اولا 100 روپے وصول کرتے ہیں یہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بیمار میں داخل ہے لہذا ایسی اسکیموں میں شرکت کی گنجائش نہیں ہے اس لیے اس سے بچنا ہر حال میں لازم ہے (مستافاذ فتاویٰ دارالعلوم زکریا- ٤٨٤/٥-) محمودیہ:٤٤٢/١٦-
📖 يا ايها الذين امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من اعمال الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (صوره مائده/٩٠)
📖 وسمي القمار قمرا لان كل واحد من المقامرين ممن يجوز ان يذهب ماله الى صاحبه هو بجوز اي يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص(در المختار-٤٠٣/٦)
مزید متعلقہ سوالات
- شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور بیوی خود ہاٹ کی مریض ہے تو اس کو اطلاع فوراً دینے میں اندیشہ ہے عدم برداشت کا تو اس صورت کا حکم مطلوب ہے؟
- غیر مسلم کی بیماری پر اس کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے؟
- تراویح کی آٹھ رکعت اور بیس رکعت دلائل کا جواب کیا ہیں؟
- نماز کے بعد دس بار سورۂ اخلاص پڑھنا حدیث سے ثابت ہے؟
- دیوالی میں گوشت، ہڈیاں اور دھلا ہوا پانی استعمال کرنے کی کیا حقیقت ہے؟