👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

ایک شخص نے بینک سے سودی رقم لے کر گھر بنایا اور ادا نے گی کے لیے کوئی شکل نہیں بن پڑی اور دوسرے شخص کو بینک سے سود مل رہا ہے تو کیا یہ دوسرا شخص پہلے شخص کی سود کی ادا نے گی میں اپنے کو ملنے والا سود دے کر مجری کر سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:-سرکاری بینک سے جو سودی رقم ملتی ہے اس کو سرکاری بینک کے لازم کردہ سود میں منہا کرانا درست ہے اس لیے کہ سودی رقم میں اصل حکم مالک کو واپس کرنا ہے اور جب مقروض بینک سے حاصل شدہ سود کو قرض پر لازم شدہ سود کے عنوان میں بینک کو دیتا ہے تو گویا کہ اصل مالک کو واپس کر دیتا ہے-(قاسمیہ:629/20-633)

📖 📖 و أما إذا كان عند رجل مال خبيث (الى قوله) ولا يمكنه أن يرده الى مالكه و يريد أن يدفع مظلمته عن نفسه فليس له حيلة إلا أن يدفعه الى الفقراء (هندية جديد:404/5،زكريا ديوبند ،الموسوعة الفقهية:246/34)

📖 📖 فيلز عليه أن يدفعه الى الفقراء؛ ولكن لا يريد بذلك الاجر والثواب؛ ولكن يريد دفع المعصية عن نفسه (تبيين الحقائق:60/7،زكريا ديوبند ؛البحر الرائق: 369/9،زكريا ديوبند)

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں