الجواب وباللہ التوفیق:-سرکاری بینک سے جو سودی رقم ملتی ہے اس کو سرکاری بینک کے لازم کردہ سود میں منہا کرانا درست ہے اس لیے کہ سودی رقم میں اصل حکم مالک کو واپس کرنا ہے اور جب مقروض بینک سے حاصل شدہ سود کو قرض پر لازم شدہ سود کے عنوان میں بینک کو دیتا ہے تو گویا کہ اصل مالک کو واپس کر دیتا ہے-(قاسمیہ:629/20-633)
📖 📖 و أما إذا كان عند رجل مال خبيث (الى قوله) ولا يمكنه أن يرده الى مالكه و يريد أن يدفع مظلمته عن نفسه فليس له حيلة إلا أن يدفعه الى الفقراء (هندية جديد:404/5،زكريا ديوبند ،الموسوعة الفقهية:246/34)
📖 📖 فيلز عليه أن يدفعه الى الفقراء؛ ولكن لا يريد بذلك الاجر والثواب؛ ولكن يريد دفع المعصية عن نفسه (تبيين الحقائق:60/7،زكريا ديوبند ؛البحر الرائق: 369/9،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- گھر پر پیتل کے برتن ہیں کچھ برتن استعمال ہوتے ہیں اور کچھ برتن کئی سال سے ایسے ہی رکھے ہوۓ ہیں؟؟ تو اب ان میں سے کن برتنوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟
- ڈاکٹر کا مریض بھیجنے کے بدلے کمیشن لینا جائز ہے؟
- سنن مؤکدہ میں تحیۃ المسجد یا نفل کی نیت کرسکتے ہیں؟
- کیا نبی کریم ﷺ نے کلیجی ناپسند فرمائی تھی؟
- کیا نفلی روزے میں خالص سیاہ خضاب کر سکتے ہیں یا نہیں؟