ایک مستری دکان پر کچھ سامان لینے کے لیے گیا مستری نے سامان کی قیمت معلوم کی تو صاحبِ دکان نے ١٠ روپے بتائی مستری نے کہا ٹھیک ہے لیکن میرے مالک( جس کے گھر مستری کام رہا ہے) کو ١٢ روپے بتانا، چنانچہ مالک آیا اس نے قیمت معلوم کی تو صاحبِ دکان نے ١٢ روپے بتائی چنانچہ مالک نے ١٢ روپے دیے اور چلا گیا اس کے بعد صاحبِ دکان نے باقی دوروپے مستری کو دیدیے، اب معلوم یہ کرنا ہے یہ معاملہ کرنا کیسا ہے اور اس میں کون کون گنہگار ہے ؟
الجواب وبالله التوفيق: ایسا کرنا درست نہیں ہے یہ دھوکہ اور ناجائز ہے۔
📖 قال رسول الله صلى عليه وسلم: "من غش فليس منا". (سنن الترمذي/كتاب البيوع/باب ماجاء في كراهية الغش في البيوع، ٥٩٧/٣، رقم الحديث: ١٣١٥، ط: مصر)