ایک شخص تہجد کے وقت اٹھا اس نے وضو کرکے دورکعت نفل نماز پڑھی نماز سے فارغ ہونے بعد پتہ چلا کہ فجر کا وقت شروع ہوچکا کافی دیر پہلے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ دو رکعت فجر کی سنتوں کے قائم مقام ہوں جائیں گی یا نہیں ؟

الجواب وباللّه التوفيق= صورتِ مسئولہ میں پڑھی ہوی دو رکعت نیت کے فرق کے سبب فجر کی سنتوں کی طرف سے کافی نہیں ہونگی- فقط

📖 لو صلّی رکعتین علی ظن أنھا تھجد، بظنّ بقاء اللیل فتبین أنھا بعد طلوعِ الفجر کانت عن سنة الفجر... الأصح أنهما لا ينوبان عن ركعتی الفجر.(الأشباہ و النظایٔر/٦٣)

📖 لو صلی قبل الفجر بنية التطوع ثم تبين أن الفجر قد طلع لا تجزئ عن سنة الفجر، لأن التعيين معتبر فيها.(رد المحتار ٢١/۲)