امام کی غیر موجودگی میں داڈھی کاٹنے والے نے نماز پڑھای تو داڈھی والے کی نماز ہوگی یا نہی؟

الجواب وبالله التوفيق= واضح رہے کہ داڑھی آنے کے بعد کٹوانے یا منڈوانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہِ کبیرہ اور حرام ہے، داڑھی منڈوانا یا کتروانافسق ہے۔ جو شخص داڑھی کاٹ کر ایک مشت سے کم کرے یا مونڈے ایسے شخص کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے، اگرتوبہ کرلے تو پھر جب تک داڑھی ایک مشت نہ ہو جائے اس وقت تك وہ شخص امامت کا اہل نہیں ہے۔ لہذا صورت مسؤلہ میں داڑھی والے حضرات کی نماز درست ہو جائے گی، تاہم بہتر یہی ہے کہ کوئی داڑھی والا ہی نماز پڑھائے -فقط

📖 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ».حوالہ: سنن الدارقطني، ج ٢، ص ٤٤۔

📖 «صَلَّى خَلْفَ فَاسِقٍ أَوْ مُبْتَدِعٍ نَالَ فَضْلَ الْجَمَاعَةِ».حوالہ: الدر المختار، ج ٢، ص ٤١٨۔