👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

بینک سے حاصل شدہ سود کس مد میں صرف کیا جاسکتا ہے تاکہ گناہوں سے بچا جا سکے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حل ہے۔

لجواب حامداً و مصلیاً : بینک سے ملنے والا سود حکومت کی ملک ہے؛ اس لئے اولاً تو یہ کوشش کی جائے کہ یہ پیسہ کسی بھی عنوان سے حکومت تک پہنچ جائے، مثلاً غیر شرعی جبری ٹیکسوں : جیسا کہ انکم ٹیکس، سیل ٹیکس، جائیداد کی رجسٹری اسٹامپ فیس وغیرہ میں یہ پیسہ دیاجاسکتاہے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو بلانیت ثواب غرباء اور فقراء کو تقسیم کردینا چاہئے۔ (مستفاد: محمودیہ ڈابھیل ۱۶؍ ۳۸۱، فتاوی عثمانی ۳؍۲۷۵، کتاب الفتاوی ۵؍۳۰۶، ایضاح النوادر۹۹)

📖 ففي جمیع الأحوال: المال الحاصل لہ حرام علیہ؛ ولکن إن أخذہ من غیر عقد لم یملکہ، ویجب علیہ أن یردہ علی مالکہ، إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء۔ (بذل المجہود، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضوء، سہارن پور۱/۳۷، دارالبشائر الإسلامیۃ بیروت ۱/۳۵۹، تحت رقم الحدیث: ۵۹)

📖 ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ، فصل في البیع، زکریا ۹/۵۵۳، کراچي ۶/۳۸۵، ہندیۃ، زکریا قدیم ۵/۳۴۹، جدید ۵/۴۰۴، تبیین الحقائق، امدادیۃ ملتان ۶/۲۷، زکریا۷/۶۰، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۳۴/۲۴۶، البحرالرائق، زکریا۹/۳۶۹، کوئٹہ ۸/۲۰۱)

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں