شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
📖 وَفِي: «أَنْتِ الطَّلَاقُ»، أَوْ «أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ»، أَوْ «أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا»، تَقَعُ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ، إِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا، أَوْ نَوَى وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ؛ لِأَنَّهُ صَرِيحُ مَصْدَرٍ لَا يَحْتَمِلُ الْعَدَدَ.حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج ٤، ص ٤٦٣، كتاب الطلاق، ط: زكريا ديوبند۔
📖 قَوْلُهُ: «فَارَقْتُكِ» يَحْتَمِلُ الْمُفَارَقَةَ عَنِ النِّكَاحِ، وَيَحْتَمِلُ الْمُفَارَقَةَ عَنِ الْمَكَانِ ... وَعَنِ الصَّدَاقَةِ ...حوالہ: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج ٣، ص ١٦٨–١٧٠، كتاب الطلاق، ط: أشرفية۔
📖 وَبَقِيَّةُ الْكِنَايَاتِ إِذَا نَوَى بِهَا الطَّلَاقَ كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً، وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا كَانَتْ ثَلَاثًا ... وَهَذَا مِثْلُ قَوْلِهِ: «أَنْتِ بَائِنٌ» وَ«بِنْتٌ» ... وَ«فَارَقْتُكِ»؛ لِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ الطَّلَاقَ وَغَيْرَهُ، فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ ... حوالہ: الهداية شرح بداية المبتدي، ج ٢، ص ٣٩١–٣٩٢، كتاب الطلاق، ط: زمزم، ديوبند۔
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟
- فضولی کے ذریعہ کیا ہوا نکاح کب درست ہے ؟