👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟

الجواب:-میں نے تجھ کو چھوڑ دیا کہنے کی صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی کیونکہ یہ لفظ اکثر جگہوں میں الفاظ صریح کے لیے مستعمل ہوتا ہے لہذا اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی البتہ اگر کسی جگہ یہ لفظ کنائی میں مستعمل ہو تو پھر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اگر ایک کی نیت کرے اور اگر زیادہ کی نیت کرے تو زیادہ واقع ہوگی اصل حکم ان الفاظ میں عرف کا ہے جہاں کا عرف جیسا ہوگا وہاں ویسا ہی حکم ہوگا-”فقط واللہ اعلم

📖 وَفِي: «أَنْتِ الطَّلَاقُ»، أَوْ «أَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ»، أَوْ «أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا»، تَقَعُ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ، إِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا، أَوْ نَوَى وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ؛ لِأَنَّهُ صَرِيحُ مَصْدَرٍ لَا يَحْتَمِلُ الْعَدَدَ.حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج ٤، ص ٤٦٣، كتاب الطلاق، ط: زكريا ديوبند۔

📖 قَوْلُهُ: «فَارَقْتُكِ» يَحْتَمِلُ الْمُفَارَقَةَ عَنِ النِّكَاحِ، وَيَحْتَمِلُ الْمُفَارَقَةَ عَنِ الْمَكَانِ ... وَعَنِ الصَّدَاقَةِ ...حوالہ: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج ٣، ص ١٦٨–١٧٠، كتاب الطلاق، ط: أشرفية۔

📖 وَبَقِيَّةُ الْكِنَايَاتِ إِذَا نَوَى بِهَا الطَّلَاقَ كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً، وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا كَانَتْ ثَلَاثًا ... وَهَذَا مِثْلُ قَوْلِهِ: «أَنْتِ بَائِنٌ» وَ«بِنْتٌ» ... وَ«فَارَقْتُكِ»؛ لِأَنَّهَا تَحْتَمِلُ الطَّلَاقَ وَغَيْرَهُ، فَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ ... حوالہ: الهداية شرح بداية المبتدي، ج ٢، ص ٣٩١–٣٩٢، كتاب الطلاق، ط: زمزم، ديوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں