الجواب و باللہ التوفیق:-عقیقہ کرنا بدعت نہیں بلکہ مستحب عمل ہے اور اسے بدعت کہنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر بہتان ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول "کہ عقیقہ سنت نہیں ہے" کا مطلب سنت مؤکدہ نہ ہونا ہے نہ کہ اس کا ناجائز ہونا امام صاحب کا مقصد زمانہ جاہلیت کے غلط طریقوں اور عقیقہ میں غلط کرنے اور خرافات کرنے کی نفی کرنا تھا نہ کہ اصل عقیقہ کی نفی مقصود تھی چنانچہ احادیث مبارک سے عقیقہ کا استحباب واضح طور پر ثابت ہے اس لیے جمہور علماء کے نزدیک عقیقہ مستحب ہے-
📖 وانما أخذ اصحابنا الحنيفة في ذلك بقول الجمهور وقالوا باستحباب العقيقة(اعلاء السنن: 113/17،)
📖 عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الغلام مرتهن بعقيقة يذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق راسه (ترمذي شريف:278/1،دار السلام 1522)
📖 والعمل على هذا عند اهل العلم يستحبون أن يذبح عن الغلام العقيقة يوم السابع فان لم يتهيا يوم السابع فيوم الرابع عشر،فإن لم يتهيا عق عنه يوم احدى وعشرون(فتح الباري: 742/9،باب أماطة الادي عن الصبي،اشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟
- صدقات کی اقسام، احکام اور مصارف کی تفصیل