الجواب وباللہ التوفی:-فجر کی ادن میں الصلوۃ خیر من النوم کہنا درج ذل حدیث سے ثابت ہے قال حفص: حدثني اهلي ابل بلال عني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوءذنه لصلاة الفجر وقالوا انهم نائم فنادى بلال باعلى صوته "الصلاة خير من النوم" فاقرات في اذان الفجر(مسند الدرامي دار المغنى:٧٦٢/٢ ،رقم:١٣٢٨)
📖 عن بلال انه ان النبي صلى الله عليه وسلم يوذنه والصلاة فوحده... فقال: الصلاة خير من النوم"مرتين ،وقال النبي صلى الله عليه وسلم باحسن هذا يا بلالا اجعله في اذانك (معجم الكبير تبراني دار احياء التراث العربي:٣٥٥/١,رقم:١٠٨١)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر موزن اذان دیتے وقت اذان کے کلمات میں سے کوئی کلمہ چھوٹ جائے تو موازن اسے دوران اذان دہرایا نہیں ہے تو اذان دوبارہ لوٹائی جائے گی یا نہیں؟
- سونا یا چاندی کرنسی کے عوض میں ادھار خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟ ان سب مسائل کا جواب اچھی طرح غور کر کے تحریر فرمائیں؟
- اگر کوئی شخص استطاعت سے پہلے حج کرے تو استطاعت کے بعد دوبارہ حج کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
- ارکان حج کتنی ہے ؟ہر ایک کی وضاحت کریں؟
- سفر حج پر روانگی کے وقت اور اس سے واپسی کے وقت دعا کرنا شرعا کیسا ہے؟