👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

فضولی کے ذریعہ کیا ہوا نکاح کب درست ہے ؟

جواب:-فضولی کے ذریعہ کیا ہوا نکاح اصیل کی اجازت پر موقوف رہتا ہے جب وہ اجازت دے اور منظور کرے تو نکاح نافذ ہو جاتا ہے اگر اصیل یا جس کو وکیل بنایا وہ اجازت نہ دے اور منظور نہ کرے تو فضولی کے ذریعے کیا ہوا نکاح درست نہیں ہوگا اور منظوری کی دو صورتیں ہیں (1) زبان سے منظور کرنا (2) کوئی ایسا کام کرنا جو شرعا منظوری پر دلالت کرے ـ

📖 يَنْعَقِدُ نِكَاحُ الْفُضُولِيِّ مَوْقُوفًا كَالْبَيْعِ إِذَا كَانَ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ، وَأَمَّا إِذَا كَانَ مِنْ جَانِبَيْنِ، أَوْ فُضُولِيًّا مِنْ جَانِبٍ وَأَصِيلًا مِنْ جَانِبٍ، فَلَا ... إِلَخْ. حوالہ: الاختيار لتعليل المختار، ج ٢، ص ١٢٢–١٢٣، كتاب النكاح، ط: مكتبة فقيه الأمة، ديوبند۔

📖 كَنِكَاحِ الْفُضُولِيِّ، أَيْ: الَّذِي بَاشَرَهُ مَعَ آخَرَ أَصِيلٍ أَوْ وَلِيٍّ أَوْ وَكِيلٍ أَوْ فُضُولِيٍّ ... فَإِنَّهُ يَتَوَقَّفُ عَلَى إِجَازَةِ الزَّوْجِ ... سَيَأْتِي فِي الْبُيُوعِ أَنَّ عُقُودَهُ كُلَّهَا مَوْقُوفَةٌ. حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج ٤، ص ٢٢٥، كتاب النكاح، ط: زكريا ديوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں