👁دیکھنے والوں کی تعداد:3

گنجے شخص کے لیے وگ پہننے کی صورت میں وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

الجواب:-انسانی بالوں سے بنی ہوئی وگ لگانا ہر صورت ناجائز ہے خواہ وگ ایسا ہو جیسے بآسانی اتارا جا سکتا ہو یا بذریعہ آپریشن سر میں فٹ کر دیا گیا ہو- لیکن انسان کے علاوہ دیگر حیوانات یا مصنوعات سے بنی ہوئی وگ دو طرح کی ہے، (1) آپریشن وغیرہ کے ذریعہ سر پر اس طرح فٹ کر دیا جائے کہ وہ سر سے جدا نہ ہو سکے، اسی حیثیت جسم کے مستقل عضو کی ہے وضو کرتے وقت اس پر مسح کر لینا کافی ہے اور (2) دوسری قسم جیسے بآسانی اتارا جا سکتا ہو وہ تو ٹوپی کے حکم میں ہے وضو میں اس کو اتار کر مسح کرنا ضروری ہے-

📖 وَالصِّرَامُ وَالصَّبَّاغُ، مَا فِي ظُفْرِهِمَا يَمْنَعُ تَمَامَ الْغَسْلِ، وَقِيلَ: كُلُّ ذَلِكَ ... وَمَوَاضِعُ الضَّرُورَةِ مُسْتَثْنَاةٌ عَنْ قَوَاعِدِ الشَّرْعِ.حوالہ: الفتاوى الهندية، ج ١، ص ٦٤، كتاب الطهارة، ط: أشرفية، ديوبند۔

📖 وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْقَلَنْسُوَةِ وَالْعِمَامَةِ. حوالہ: الفتاوى الهندية، ج ١، ص ٥٦، كتاب الطهارة، ط: أشرفية، ديوبند۔

📖 وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ وَلَا الْقَلَنْسُوَةِ؛ لِأَنَّهُمَا يَمْنَعَانِ وُصُولَ الْمَاءِ إِلَى الشَّعْرِ. حوالہ: بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج ١، ص ٧١، ط: زكريا، ديوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں