👁دیکھنے والوں کی تعداد:4
کیا ہاتھ پیچھے باندھ کر چلنے کی ممانعت کسی حدیث سے ثابت ہے؟
الجواب: پشت کے پیچھے دونوں ہاتھ باندھ کر یا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو پکڑ کر چلنا شرعی اعتبار سے ممنوع یا حرام نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں اس طرح چلنے کی کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح اس طرزِ عمل کو جہنمیوں کا طریقہ یا ان کی خاص علامت قرار دینے کی بھی کوئی معتبر شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔
لہٰذا معاشرے میں اس طرح کی مشہور باتوں کو بے بنیاد سمجھنا چاہیے۔ کسی عمل کو حرام یا جہنمیوں کی صفت قرار دینے کے لیے شریعت کی معتبر دلیل ہونا ضروری ہے۔
📖 عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رضي الله عنه قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا، وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي، وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي، فَقَالَ: «أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ؟» (سنن أبي داود، كتاب الأدب، حديث: 4848)
مزید متعلقہ سوالات
- کیا سرکاری زمین پر گاؤں والوں کے مسجد تعمیر کرنے سے وہ شرعی مسجد بن جائے گی؟
- گنجے شخص کے لیے وگ پہننے کی صورت میں وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟
- اگر پانی کی ٹنکی میں ہڈی مل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- اہل کتاب سے نکاح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیل ہے اگر ہو تو مفصل بیان کریں؟
- جہیز لینا اور دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ نیز دورِ نبوت اور دورِ صحابہ میں جہیز دینے کا کیا رواج تھا؟