جعلی مارک سیٹ بنوا کر سرکاری نوکری حاصل کرنا کیسا ہے اگر ایسی نوکری حاصل ہو گئی ہے تو اس نوکری کی تنخواہ جائز ہے یا نہیں؟ حلال ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:-جعلی مارک سیٹ بنوا کر سرکاری نوکری حاصل کرنا ایک قسم کا دھوکہ ہے شرعا یہ فعل درست نہیں ہے تا ہم صورت مسئولہ میں اس نوکری کے نتیجے میں جو تنخواہ ملے گی وہ محنت ومزدوری کی ہوگی اس لیے تنخواہ جائز ہو گا اور انشاءاللہ اس سلسلے میں کوئی مواخذہ نہ ہوگا-
📖 عن ابي هريره رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من غلبنا السلاح فليس منا، ومن حمل علينا السلاح فليس منا،ومن غشنا فليس منا (صحيح مسلم كتاب الايمان باب ومن غشنا فليس منا: ٧٠/١ بيت الافكار, رقم: ٨٧٤١)
📖 عن عبد الله رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة(سنن الكبرى للبيهقى دار الفكر بيروت:٥٩/٩)
📖 والاجر انما تكون في مقابلة العمل (شامي كتاب النكاح باب المهر زكريا: ٣٠٧/٤)
مزید متعلقہ سوالات
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟
- رکوع یا سجدہ میں دعائے ماثورہ کے بجائے قرآن پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
- اگر لڑکا لڑکی زنا کی حد تک پہنچ جائے اور گواہ وہاں پر موجود نہ ہوں تو کیا لڑکا لڑکی کا آپس میں قبول کرنے سے نکاح ہو جاےگا
- اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے امام اور مقتدیوں کی مغفرت ہوتی ہے؟
- بچوں کی دینی اور دنیوی تعلیم میں زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟