الجواب وباللہ التوفیق:-جعلی مارک سیٹ بنوا کر سرکاری نوکری حاصل کرنا ایک قسم کا دھوکہ ہے شرعا یہ فعل درست نہیں ہے تا ہم صورت مسئولہ میں اس نوکری کے نتیجے میں جو تنخواہ ملے گی وہ محنت ومزدوری کی ہوگی اس لیے تنخواہ جائز ہو گا اور انشاءاللہ اس سلسلے میں کوئی مواخذہ نہ ہوگا-
📖 عن ابي هريره رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من غلبنا السلاح فليس منا، ومن حمل علينا السلاح فليس منا،ومن غشنا فليس منا (صحيح مسلم كتاب الايمان باب ومن غشنا فليس منا: ٧٠/١ بيت الافكار, رقم: ٨٧٤١)
📖 عن عبد الله رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة(سنن الكبرى للبيهقى دار الفكر بيروت:٥٩/٩)
📖 والاجر انما تكون في مقابلة العمل (شامي كتاب النكاح باب المهر زكريا: ٣٠٧/٤)
مزید متعلقہ سوالات
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟
- صدقات کی اقسام، احکام اور مصارف کی تفصیل