👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

ایک چھوٹی سی نالی ہے اس میں پانی جا رہی ہے اس نالی میں ناپاکی بھی پڑ جاتی ہے تو اس جاری پانی میں ناپاکی گر جانے کے بعد رنگ اور بو اور ذائقہ نہ بدلے پانی کی طبیعت میں صاف ستھرا ہے تو پانی کو پاک سمجھا جائے گا یا نہیں اگر پاک سمجھا جائے گا تو پاکی کی علامت کیا ہے؟ دونوں مسئلے متعدد کتابوں کے حوالہ سے مدلل کر کے واضح فرمائیے؟

الجواب:-صورت مسئولہ میں مذکور جاری نالی کے اندر ناپاکی پر جانے کے بعد رنگ بو مزہ نہ بدلے تو پانی پاک و مطہر ہی رہے گا اور اس جاری پانی کے پاک ہونے کے علت رنگ بو اور مزہ کا نہ بدلنا ہے-

📖 وَالْمَاءُ الْجَارِي إِذَا وَقَعَتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ، جَازَ الْوُضُوءُ بِهِ إِذَا لَمْ يُرَ لَهَا أَثَرٌ؛ لِأَنَّهَا لَا تَسْتَقِرُّ مَعَ جَرَيَانِ الْمَاءِ، وَالْأَثَرُ: الطَّعْمُ أَوِ الرَّائِحَةُ أَوِ اللَّوْنُ، وَالْجَارِي مَا لَا يَتَكَرَّرُ، وَقِيلَ: مَا يَذْهَبُ بِتَبَنَةٍ...حوالہ: الهداية، ج ١، ص ٣٥–٣٦، هندي نسخه

📖 وَيَجُوزُ بِجَارٍ وَقَعَتْ فِيهِ، وَالْجَارِي: وَهُوَ مَا يُعَدُّ جَارِيًا عُرْفًا، لَمْ يَكُنْ جَرَيَانُهُ بِمَدَدٍ، إِنْ لَمْ يُرَ أَثَرُهَا، وَهُوَ طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ أَوْ رِيحٌ. وَتَحْتَهُ فِي الشَّامِيَّةِ: وَقَعَتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ سَائِلَةٌ الْمَرْئِيَّةُ...حوالہ: رد المحتار، ج ١، ص ٣٣٤، ط: زكريا ديوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں