الجواب وباللہ توفیق:- زندہ جونک سے جو تیل نکلتا ہے وہ پاک ہے خواہ اس وقت اس کے اندر دم مسفوح ہو یا نہ ہو اسی طرح چھوٹے جونک خواہ مرنے کے بعد اس سے تیل نکالا گیا ہو تو اس کا بھی خون پاک ہے لیکن جھوٹ بڑا ہو اور اس کے مرنے کے بعد تیل نکالا گیا ہو تو وہ ناپاک ہے لہذا جو پاک تیل ناپاک تیل سے مخلوط ہو جائے تو لگے ہونے کی صورت میں نماز درست نہ ہوگی لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ کس کا تیل ہے مخلوط ہے یا نہیں تو احتیاطا دھونے کا حکم دیا جائے گا۔نوٹ: جونک کے اندر اپنا کوئی خون نہیں ہوتا ہے بلکہ خون دوسرے کا چوسا ہوا ہوتا ہے اسی طرح مچھر، کھٹمل، جوں وغیرہ میں اپنا کوئی تیل نہیں ہوتا بلکہ ان سب میں استعار ہوتا ہے۔

📖 والاصح في العلق او امص الدم انه يفسد الماء (البحر الرايق: ١٦٢/١ زكريا)

📖 لان الحيوان انما يتنجس في الموت بسبب الاختلاط الدم المسفوح.... الا ترى ان العظم والشعر وما اسبههما لا يتنجس بالموت بعدم الدم(المحيط البرهاني: ٢٧١/١)

مزید متعلقہ سوالات