الجواب:-جس کتے کو پالنا جائز ہے اس کے خرید و فروخت بھی جائز ہے اور جس کتے کو پالنا جائز نہیں ہے اس کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے اب رہی کن کتے کو پالنے کی اجازت ہے شکار کے لیے، گھر اور کھیتی کی حفاظت کے لیے ہے لہذا جو کتا مذکورہ امور کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہو اس کی خرید وہ فروخت جائز ہے ورنہ نہیں نیز بلی کی خرید و فروخت کراہت کے ساتھ جائز ہے-
📖 وبيع الكلب غير المعلم يجوز إذا كان قابلا للتعليم، والا فلا وهو الصحيح كذا في جواهر الاخلاطي.... وهكذا نقول في الاسد....(بالفتاوى الهندية:١١٥/٣،كتاب البيوع، زكريا ديوبند)))))
📖 وكذا بيع سعر الخنزير وبيع الكلب المعلم عند ناجائز وكذلك بيع السنور وسباع الوحش والنظير جائز عندنا معلما كان او لم يكن(فتاوى قاضيخان:٨١/٨،كتاب البيوع، فصل في البيع الباطل ،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- چندہ لے کر حج کرنا شرعا کیسا ہے؟
- طوفان،زلزلہ، بلا مصیبت کی وقت اذان دینا شرعا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو کیوں یا اس میں کوئی اختلاف ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟
- اگر کسی شخص نے پہلی رکعت میں بھول سے تین سجدہ کرلیا تو کیا حکم ہے؟
- تین سیزیرین کے بعد دائمی مانعِ حمل آپریشن کا حکم
- فرض نماز کی جماعت میں صفوں کو سیدھی کرنا اور سیدھی رکھنا کیا حکم رکھتا ہے اور تیڑھی تیڑھی کر رہنا کیسا ہے اگر تیڑھی تیڑھی کرنا جائز نہیں ہے تو درمیانی صف میں میز ر کھ کر کے کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنا کراہت میں داخل ہوگا یا نہیں اگر وہ بھی معذور آدمی ہے اس کو اگر کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنے کی سخت ضرورت ہے تو اپنی کرسی کہاں رکھ کر نماز پڑھے؟