باسمہ سبحانہ و تعالی الجواب وبا اللہ التوفیق صورت مسؤلہ میں قرآن کی جھوٹی قسم کھانے سے کفارہ لازم نہیں ہوگا البتہ قرآن مقدس کی جھوٹی قسم کھانے سے اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے اس پر توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ اس طرح کا عمل کرنے احتراز کرے نیز اللہ کے علاوہ کسی اور شئ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے لہذا شدید ضرورت پڑنے پر صرف اللہ تعالی کی ہی قسم کھانی چاہۓ

📖 📖 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، أَوْ قَالَ: الْيَمِينُ الْغَمُوسُ" شَكَّ شُعْبَةُ، وَقَالَ مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:" الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، أَوْ قَالَ: وَقَتْلُ النَّفْسِ". صحیح بخاری /کتاب الدیات / باب قول اللہ تعالی (ومن احیاھا) رقم نمبر 6870

مزید متعلقہ سوالات