کیا حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کو نام لے کر پکارتی تھیں؟

الجواب وبااللہ التوفیق ۔ بندے کی تحقیق کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عموما یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں متعدد احادیث میں یہ الفاظ منقول ہیں جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے یا آپ سے کسی بات کے بارے میں سوال یا استفسار کرتے ہوئے یا رسول اللہ کے الفاظ کہیں ہیں حضرات صحابہ اور ازواج مطہرات کا عمومی طریقہ جناب رسول اللہ صلی ال علیہ وسلم کو خطاب کرنے کا یہی تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعظیم اور ادب کے ساتھ یا رسول اللہ ۔۔یا ۔۔ یا نبی اللہ کہہ کر پکارتے تھے اس کے علاوہ بھی نصوص پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ حضرات یا محمد کہ کریعنی آپ کے نام کے ساتھ مخاطب کرتی تھیں۔

📖 وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «حُفَاةً عُرَاةً». قُلْتُ: وَالنِّسَاءُ؟ قَالَ: «وَالنِّسَاءُ». قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا يَسْتَحْيِي أَحَدٌ مِنْ أَحَدٍ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، الْأَمْرُ أَهَمُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ». حوالہ: سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذكر البعث، رقم الحديث: ٤٢٧٦، عن عائشة رضي الله عنها۔

📖 قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾. حوالہ: سورة الحجرات، آیت: ٢۔ وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴾. حوالہ: سورة الحجرات، آیت: ٤۔

📖 وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ بِمِنًى، وَقَدْ أَفَاضَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا. قَالَ: «لَا، أَوَلَمْ تَكُنْ قَدْ أَفَاضَتْ؟» قُلْتُ: بَلَى. حوالہ: صحيح البخاري، ج ١، ص ٧٣، رقم الحديث: ٣٢٨، كتاب الحيض، باب المرأة تحيض بعد الإفاضة؛ ومسند أحمد، مسند الصديقة عائشة بنت الصديق رضي الله عنها، رقم الحديث: ٢٤٦٧٤۔