👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

مسجد سے اعلان کرتے وقت جو سلام کیا جاتا ہے اس کا جواب دینا بھی واجب ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق : اگر کوئی شخص کسی مجمع کو سلام کرے تو سننے والوں میں سے کسی ایک فرد پر سلام کا جواب دینا واجب ہے، اگر کوئی ایک شخص بھی جواب نہ دے تو وہ تمام لوگ گنہگار ہوں گے، لہذا ایسی صورت میں اگر مسجد کے مائک سے سلام کا اعلان ہو تو جہاں تک مائک کی آواز پہنچے اور جو حضرات اس سلام کو سنے ان میں سے کسی ایک فرد پر سلام کا جواب دینا واجب ہوگا ،اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیسے معلوم ہو کہ کس نے جواب دیا ہے اور کس نے نہیں تو ایسی صورت میں جو بھی سنے اس کو سلام کا جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے کوئی نہ کوئی ایک فرد سلام کا جواب دینے والا ہو جائے گا اور وہ تمام لوگ اس کی وجہ سے ذمے سے بری ہو جائیں گے۔ جیسا کہ درج ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔

📖 لَوْ دَخَلَ شَخْصٌ مَجْلِسًا، فَإِنْ كَانَ الْجَمْعُ قَلِيلًا يَعُمُّهُمْ سَلَامٌ وَاحِدٌ فَسَلَّمَ، كَفَاهُ. فَإِنْ زَادُوا فَخَصَّصَ بَعْضَهُمْ، فَلَا بَأْسَ، وَيَكْفِي أَنْ يَرُدَّ مِنْهُمْ وَاحِدٌ. فَإِنْ زَادُوا فَلَا بَأْسَ. وَإِنْ كَانُوا كَثِيرًا بِحَيْثُ لَا يَنْتَشِرُ فِيهِمْ، فَيَبْتَدِئُ أَوَّلَ دُخُولِهِ إِذَا شَاهَدَهُمْ، وَتَتَأَدَّى سُنَّةُ السَّلَامِ فِي حَقِّ جَمِيعِ مَنْ يَسْمَعُهُ، وَيَجِبُ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ الرَّدُّ عَلَى الْكِفَايَةِ.حوالہ: فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج ١١، ص ١٤–١٥، ط: رياض۔

📖 قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ: إِذَا دَخَلَ جَمَاعَةٌ عَلَى قَوْمٍ، فَإِنْ تَرَكُوا السَّلَامَ فَكُلُّهُمْ آثِمُونَ فِي ذَلِكَ، وَإِنْ سَلَّمَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ جَازَ عَنْهُمْ جَمِيعًا، وَإِنْ تَرَكُوا الْجَوَابَ فَكُلُّهُمْ آثِمُونَ، وَإِنْ رَدَّ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَجْزَأَهُمْ.حوالہ: تكملة فتح الملهم بشرح صحيح الإمام مسلم، ج ٤، ص ٢٤٣، ط: المكتبة الأشرفية، ديوبند۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں