الجواب:-مدت رضاعت کے سلسلے میں ائمہ کرام اختلاف ہے چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی مدت ڈھائی سال ہے اور حضرات صاحبین کے یہاں مدت رضاعت دو سال ہے اور یہی قول امام شافعی کا بھی ہے اور حضرت امام زفر کے نزدیک تین سال ہے-

📖 هُوَ حَوْلَانِ وَنِصْفٌ عِنْدَهُ، وَحَوْلَانِ فَقَطْ عِنْدَهُمَا، وَهُوَ الْأَصَحُّ، فَتْحٌ، وَبِهِ يُفْتَى كَمَا فِي تَصْحِيحِ الْقُدُورِيِّ... حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، ج 4، ص 394، كتاب النكاح، باب الرضاع، مكتبة زكريا، ديوبند۔

📖 ثُمَّ مُدَّةُ الرَّضَاعِ ثَلَاثُونَ شَهْرًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَقَالَا: سَنَتَانِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَقَالَ زُفَرُ: ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ؛ لِأَنَّ الْحَوْلَ حَسَنٌ لِلتَّحَوُّلِ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ... حوالہ: الهداية في شرح بداية المبتدي، ج 2، ص 371، كتاب النكاح، باب الرضاع، زمزم، ديوبند۔

📖 وَوَقْتُ الرَّضَاعِ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مُقَدَّرٌ بِثَلَاثِينَ شَهْرًا، وَقَالَا: مُقَدَّرٌ بِحَوْلَيْنِ، هَكَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ.حوالہ: الفتاوى الهندية، ج 1، ص 409، كتاب النكاح، كتاب الرضاع، المكتبة الأشرفية، ديوبند۔