جواب:-جو مسجد مال حرم سے بنائی گئی ہے اس کو شرعی مسجد بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی اتنی رقم جو تعمیر مسجد میں صرف ہوئی ہے اگر ممکن ہو تو مالک کو واپس کر دے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اتنی رقم فقراء پر صدقہ کر دی جائے تو یہ مسجد مسجد شرعی بن جائے گی-(قاسمیہ:٤٨٩/١٨)
📖 قالوا: وعلى هذا لو مات رجلٌ وكسبُه من ثمنِ الباذِقِ والظُّلمِ أو أخذَ الرِّشوةَ، تُرَدُّ الورثةُ ولا يأخذون منه شيئًا، وهو الأولى لهم، ويردُّونه على أربابه إن عرفوهم، وإلَّا يتصدَّقوا به؛ لأنَّ سبيلَ الكسبِ الخبيثِ التصدُّقُ إذا تعذَّر الردُّ. حوالہ: البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج 8، كتاب الكراهية، فصل في البيع، ص 201، ط: كوئٹہ۔
📖 والواجبُ في الكسبِ الخبيثِ تفريغُ الذِّمَّةِ والتخلُّصُ منه بردِّه إلى أربابِه إن عَلِموا، وإلَّا إلى الفقراءِ. حوالہ: الموسوعة الفقهية الكويتية، ج 34، ص 245، مادة: كسب۔
مزید متعلقہ سوالات
- پرانے اور پھٹے نوٹ کم قیمت پر بیچنا یا بدلنا جائز ہے یا نہیں
- ٹیشو پیپر سے استنجا کا شرعا کیا حکم ہے؟
- بیع الوفاء شرعا درست ہے یا نہیں یا اس میں کوئی اختلاف ہے اگر ہو تو اختلافی اقوال کو نقل کرنے کے بعد راجح قول کی بھی وضاحت کریں؟
- اذان کے بعد دعا کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں
- عصر اور فجر کے دوران طلوع و غروب آفتاب کا شرعی حکم