امام صاحب نے نماز میں سورۂ قارعة اس طرح پڑھی: القارعة ما القارعة اس کے بعد ایک آیت چھوڑدی پھر يوم يكون الناس كالفراش المبثوث وتكون الجبال كالعهن المنفوش پڑھ کر پھر ایک آیت چھوڑ دی پھر آخر میں امام صاحب نے سجدۂ سہو بھی کرلیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟ واضح فرمائیں۔
📖 وان ترك كلمةمن آية فان لم يتغير المعنى كما قرأ وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وترك ذا...الى قوله.... او قرأ جزاء سيئة سيئة مثلها بترك سيئة الثانية لا تفسد الخ. (كبيري/كتاب الصلاه/باب ما يفسد الصلاوما يكره فيها/فصل في زلۃ القارى، ص: ٤٦١، ط: رحيميه دیوبند، قديم. ص: ٤٩٢، ط: سهيل اكيڈمي لاہور)
مزید متعلقہ سوالات
- خیار شرط کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بغیر وطن واپس آ جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- نئی دلی اسٹیشن میں انگریزوں کے زمانے سے ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس میں باضابطہ امام و مؤذن ہے سرکار یہ چاہتی ہے کہ اس مسجد کو مسمار کر کے اس کے بدلے میں مسلمانوں کی پسندیدہ جگہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کر کے دینا چاہتی ہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی ؟
- اگر کسی ٹنکی میں کوئی پرندہ گر جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- تیمم کا مسنون طریقہ کیا ہے ترتیب وار مکمل بیان کریں؟