جواب:-اگر عذر کی وجہ سے جماعت ترک کر دے تو شرعا وہ شخص گنہگار نہیں ہوگا اور اس کو اس کی گنجائش ہے لیکن اگر بلا عذر قصدا جماعت چھوڑ دے اور اس کی عادت بنا لے تو وہ شخص گنہگار ہوگا ایسا نہیں کرنا چاہیے-
📖 قال أبو الدرداء رضي الله عنه: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من ثلاثةٍ في قريةٍ ولا بدوٍ، ولا تُقام فيهم الصلاة، إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليكم بالجماعة». قال السائب: يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة.(مشكاة المصابيح، 1/335، رقم الحديث: 1067، بيروت)
📖 قوله: بتركها مرة، أي بلا عذر، وهذا عند العراقيين، وعند الخراسانيين إنما يأثم إن اعتاده، كما في القنية. وقد مر قوله: ... من غير حرج، قيدٌ لكونها سنةً مؤكدةً أو واجبةً، فبالحرج يرتفع الإثم، ويُرَخَّص في تركها.(الدر المختار مع رد المحتار، 2/290–291، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وكذا الأحكام تدلُّ على الوجوب؛ من أن تاركها من غير عذرٍ يُعزَّر، وتُرَدُّ شهادتُه، ويأثم الجيرانُ بالسكوت عنه، وهذه كلُّها أحكامُ الواجب... (حلبي كبير، 1/509، كتاب الصلاة، بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
- نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو اور زکوۃ کی رقم نہ ہو تو کیا کرے
- لڑکی والوں کا رخصتی کے وقت دوست و احباب کو کھانا کھلانے کا حکم
- جمعہ کے جواز کے لیے تین آدمیوں کے علاوہ شہر کی شرط بھی ہے یا نہیں