طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
جواب:-طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اگر کسی نے دو رکعت ادا نہیں کی ہو تو اس کا طواف ادا ہو گیا البتہ نوافل کو چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو وہ بھی دو رکعت نہ پڑھے کیونکہ عصر کے بعد کسی قسم کی نوافل ادا کرنا درست نہیں ہے بلکہ مغرب کی فرض نماز کے بعد سنتوں سے پہلے طواف کی دو رکعت ادا کر لے۔فقط واللہ اعلم
📖 ولو طاف أسابيعَ، فعليه لكلِّ أسبوعٍ ركعتان على حدة... ويُكره تأخيرُها عن الطواف إلا لوقتٍ مكروه؛ لأن الموالاةَ سنَّةٌ. ولو طافه بعد العصر، يصلِّي المغربَ، ثم ركعتي الطواف، ثم سنَّةَ المغرب...(البحر الرائق، 2/356، باب الإحرام)
📖 صلاةُ ركعتين لكلِّ أُسبوعٍ من أيِّ طوافٍ كان، فلو تركها هل عليه دم؟ قيل: نعم، فيوصي به.(الدر المختار مع رد المحتار، 3/541، كتاب الحج، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الصبح حتى تشرق الشمس، وبعد العصر حتى تغرب.(صحيح البخاري، 1/120، رقم الحديث: 581)
مزید متعلقہ سوالات
- حادثے میں جسم کے ٹکڑے ہوجانے پر میت کو غسل کیسے دیا جائے؟
- ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟
- کیا عورت پیتل کی انگوٹھی پہن سکتی ہے؟
- اکیڈمی کے تقابلی مقابلے میں 100 روپے جمع کرانے کا حکم کیا ہے؟
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟