قربانی کے جانور کے منہ میں چھلہ ڈال کر شفا کی امید رکھنے کا حکم
الجواب وبالله التوفيق: جانور ذبح کرتے وقت اس کے منہ میں چھلہ وغیرہ ڈال کر یہ تصور کرنا کہ اس سے بیماری میں شفا ملے گی، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں ہے؛ بلکہ اس طرح کے توہمات سے کلی اجتناب کیا جائے۔
📖 عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عَدْوَى، ولا طِيَرَةَ، ولا هَامَةَ، ولا صَفَرَ، وفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كما تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ». (مرقاة المفاتيح، كتاب الطب والرقى، باب الفأل والطيرة، 8/393، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)
📖 من أعتقد أن شيأ سوى الله ينفع أو يضر بالاستقلال، فقد أشرك جليا. (مرقاة المفاتيح/كتاب الطب والرقى/باب الفال والطيرة، ٣٩٨/٨، ط: دار الكتب العلمية بيروت) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- حادثے میں جسم کے ٹکڑے ہوجانے پر میت کو غسل کیسے دیا جائے؟
- ایک شخص کا معمول ٢٠ رجب کو زکوٰۃ نکالنے کا ہے، اس نے ٢٠ تاریخ کو حساب لگا لیا تھا، ابھی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی ٢٦ رجب تک تک اس کے پاس مزید مال آگیا تو اس مزید مال کی زکوٰۃ بھی اِسی سال ادا کرنی ہوگی؟
- کیا عورت پیتل کی انگوٹھی پہن سکتی ہے؟
- اکیڈمی کے تقابلی مقابلے میں 100 روپے جمع کرانے کا حکم کیا ہے؟
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟