👁دیکھنے والوں کی تعداد:0
شب برأت کے موقع پر مسجد میں بیان کرانے کا حکم کیا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق: پندرہ شعبان کی رات میں عبادت کرنا اور دن میں روزہ رکھنا حدیثِ پاک سے ثابت ہے البتہ اس رات بہت سی خرافات ہوتی ہیں ان خرافات پر روک تھام کے لیے اگر حضراتِ علماء کرام سے بیانات کرالیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اس کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے۔
📖 عن على بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم "إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها وصوموا نهارها إلى آخر الحديث. (سنن ابن ماجة/كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها/باب ماجاء في ليلة النصف من شعبان، ٤٤٤/١، رقم الحديث: ١٣٨٨، ط: بيروت)
📖 عن أبي موسى: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إنما مثل الجليس الصالح، والجليس السوء، كحامل المسك، ونافخ الكبير، فحامل المسك: إما أن يحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحا طيبة، ونافخ الكبير: إما أن يحرق ثيابك، وإما أن تجد ريحا خبيثة. (صحيح المسلم/كتاب البر والصلح والأدب/باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء، ٣٣٠/٢، ط: النسخة الهندية) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟